Quran ki aham malumat quran ki jankariya

Home » Quran ki aham malumat quran ki jankariya

 بسم الله الرحمن الرحيم 

قرآنی معلومااللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ،

پھر تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔

یہ قرآن انس وجن کی ہدایت ورہبری کا سرچشمہ ہے۔ اللہ کی یہ کتاب دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ قرآن کے لفظی معنی بھی باربار اور بہت زیادہ پڑھی جانے والی کتاب کے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی لفظ قرآن کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی کا پہلا کلمہ اِقْرأ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔

قرآن کے نزول کا اصل مقصد قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا اور اس پر عمل کرنا ہے، اگرچہ صرف قرآن کریم کی تلاوت پر بھی اجرعظیم ملتا ہے،

جیساکہ مفسر اوّل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف سورتوں کے مختلف اوقات میں پڑھنے کے متعدد فضائل بیان کئے ہیں۔ قرآن کریم سے متعلق چند معلومات پیش خدمت ہیں۔

علماء کرام نے لوگوں کی سہولت کے لئے قرآن کریم کو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا ہے:

منزلیں: قرآن کریم میں ۷ منزلیں ہیں۔ یہ منزلیں اس لئے مقرر کی گئی ہیں تاکہ جو لوگ ایک ہفتہ میں ختم قرآن کریم کرنا چاہیں وہ روزانہ ایک منزل تلاوت فرمائیں۔

پارے: قرآن کریم میں ۳۰ پارے ہیں، انہی کو جز بھی کہا جاتا ہے۔ جوحضرات ایک ماہ میں قرآن کریم ختم کرنا چاہیں وہ روزانہ ایک پارہ تلاوت فرمائیں۔ بچوں کو قرآن کریم سیکھنے کے لئے بھی اس سے سہولت ہوتی ہے۔

سورتیں: قرآن کریم میں ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ ہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ لکھی ہوئی ہے سوائے سورۂ توبہ کے۔ سورۃ النمل میں بسم اللہ ایک آیت کا جز بھی ہے،

اس طرح قرآن کریم میں بسم اللہ کی تعداد بھی سورتوں کی طرح ۱۱۴ ہی ہے۔ ان تمام سورتوں کے نام بھی ہیں جو بطور علامت رکھے گئے ہیں بطور عنوان نہیں۔

مثلاً سورۃالفیل کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سورہ جو ہاتھی کے موضوع پر نازل ہوئی، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں ہاتھی کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح سورۃالبقرہ کا مطلب وہ سورہ جس میں گائے کا ذکر آیا ہے۔

آیات: قرآن کریم میں چھ ہزار سے کچھ زیادہ آیات ہیں۔

سجدۂ تلاوت: قرآن کریم میں ۱۴ آیات ہیں، جن کی تلاوت کے وقت اور سننے کے وقت سجدہ کرنا واجب ہوتا ہے۔

مکی ومدنی آیات وسورتیں:

ہجرت مدینہ منورہ سے قبل تقریباً ۱۳ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مکی اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تقریباً ۱۰ سال تک قرآن کریم کے نزول کی آیات وسورتوں کو مدنی کہا جاتا ہے۔

♻مضامین قرآن:

علماء کرام نے قرآن کریم کے مضامین کی مختلف قسمیں ذکر فرمائی ہیں، تفصیلات سے قطع نظر ان مضامین کی بنیادی تقسیم اس طرح ہے:

۱) عقائد۔ ۲) احکام۔ ۳) قصص

عقائد: توحید ، رسالت، آخرت وغیرہ کے مضامین اسی کے تحت آتے ہیں۔ عقائد پر قرآن کریم نے بہت زور دیاہے اور ان بنیادی عقائد کو مختلف الفاظ سے بار بار ذکر فرمایا ہے۔

ان کے علاوہ فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، جزاوسزا، جنت ودوزخ، عذاب قبر، ثواب قبر، قیامت کی تفصیلات وغیرہ بھی مختلف عقیدوں پر قرآن کریم میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

احکام: اس کے تحت مندرجہ ذیل احکام اور ان سے متعلق مسائل آتے ہیں:

عبادتی احکام : نماز، روزہ، زکاۃ اور حج وغیرہ کے احکام ومسائل۔



قرآن کریم میں سب زیادہ تاکید نماز پڑھنے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں نماز کی ادائیگی کے حکم کے ساتھ ہی عموماً زکاۃ کی ادائیگی کا حکم بھی وارد ہوا ہے۔معاشرتی احکام : مثلاً حقوق العباد کی ساری تفصیلات۔

معاشی احکام : خرید وفروخت، حلال اور حرام اور مال کمانے اور خرچ کرنے کے مسائل۔

اخلاقی وسماجی احکام: انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق احکام ومسائل۔

سیاسی احکام : حکومت اور رعایا کے حقوق سے متعلق احکام ومسائل۔

عدالتی احکام : حدود وتعزیرات کے احکام ومسائل۔

قصص: گزشتہ ابنیاء کرام اور ان کی امتوں کے واقعات کی تفصیلات۔

قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں بے شمار ترجمے ہوئے ہیں اور تفسیریں تحریر کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے اور ان شاء اللہ کل قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ مگر سب کا مأخذ قرآن وحدیث ہی ہے،

یعنی مفسر اوّل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں ہی قرآن کریم سمجھا جاسکتا ہے۔

گروپ☜♛دین اور دنیا♛
☏+966508396654



2017-10-05T23:58:03+00:00 0 Comments

Leave A Comment